آج میں اپنے حجاب کی کہانی سناتی ہوں
(آپ بھی اپنے حجاب کا خوبصورت سفر ہمارے ساتھ شیئر کریں)
میں پنجابی فیملی سے تعلق رکھتی ہوں آپ سب کو پتہ ہے پنجابی لوگ اوپن مائنڈ ہوتے ہیں مطلب کوئی خاص پابندی نہیں ہوتی
میں 9th کلاس میں تھی مجھے بہت شوق تھا برقعہ پہننے کا
میرے گھر میں میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا کسی نے حجاب لیا ہو ہاں دیکھا بھی تو صرف فیشن کے طور پر
نہیں معلوم تھا کہ یہ اللہ کی خاطر کیا جاتا ہے
میں چوری چوری پہنے لگی جب اسکول جانا ہوتا تو نیچے سڑیوں میں جاتے بیگ سے نکل کر پہن لیتی یہ سلسلہ کافی عرصہ چلتا رہا کیونکہ میری فملی میں سب کہتے تھے بڑی لگوگی مت پہنو یہ وہ اور بہت باتیں جیسے جیسے میں ہوش سنبھالتی گئی دین کی طرف آتی گئی مجھ پر
سارے احکامِ الہی واضع ہوتے چلے گئے میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ کچھ بھی ہوجائے مجھے اپنے حجاب پر قائم رہنا ہے میں نے گھر میں بھی خود کو کور رکھنا شروع کردیا باہر بھی مکمل پردہ کرکے جاتی
میں پردے میں آکر اللہ کے اور قریب ہوگئ میں گھر میں موسیقی کی جگہ بیانات سننے لگی مجھے اس پر بھی بہت باتیں اور اس قسم کے جملے “مولانی اور اللہ والی اور ہر وقت ان مولوی کو سنتی رہتی ہو دماغ خراب ہوجائے گا
میرے لئے بہت دشوار تھا یہ سفر مگر میں قائم رہی اور اللہ پر بھروسہ رکھا کہ ایک دن اللہ سب کے دلوں میں میرے پردےکے لئے محبت اور عزت پیدا کردیں گے
اور پھر یونہی ہوا میرے اللہ نے گھر سے ہی مددگار بنا دئے میں اپنے پورے خاندان میں واحد پردہ کرنے والی لڑکی ہوں میرا سفر بہت مشکل تھا مگر اللہ نے میرا ساتھ دیا مجھےپردہ پر قائم رہنے کی ہمت دی اور ان شا ء اللہ مرتے دن تک قبر
میں ساتھ دفن ہوگا
بقلم خود مہناز فیروز
