شادی سے پہلے پڑھائی ، پراجیکٹ، تھیسس، کلاسس
غرض صبح سے شام جیسے ایک جنگ کا سماں ہے
پھر شادی کے اگلے دن سے ہی سیاست کیوں زندگی میں آ جاتی ہے؟
لڑکیوں کو اپنی تعلیم اور اس وقت کا صرف یہ کیوں یاد رہ جاتا ہے کہ بہت مزہ کرتے تھے؟
وہ والی تحریک اپنے اندر سے کہیں کھو کیوں جاتی ہے کہ زندگی میں ہم بہت کچھ کر رہے تھے؟
مانتی ہوں کہ ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔
مگر زندگی ختم نہیں ہوئی ہے۔۔۔نئے سفر کے لیے نیا ساتھی ملا ہے نئی یونیورسٹی نئے استاد ملے ہیں
آپ کوکنگ کی کلاس لیں۔۔۔۔فیملی ٹائم کی کلاس لیں۔۔۔۔شوہر کی خدمت کی کلاس لیں مگر اپنا پراجیکٹ تو یاد رکھیں۔۔۔۔اس کی ڈیڈ لائن تو ہماری سانس کے ساتھ ختم ہونی ہے ۔۔۔ہم اس دنیا میں کچھ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔۔۔
جب ہم اپنی اولادوں کو صرف اس لیے پڑھاتے ہیں کہ لڑکی نے بڑے ہو کر شادی کے مقصد کو پہنچنا اور لڑکے نے نوکری تک تو ہم حقیقت میں اپنے وجود کی توہین کر رہے ہیں۔۔۔۔اللہ کی تخلیق کو ضائع کر رہے ہیں۔۔۔۔
مقصد اتنا چھوٹا ہو گا تو دماغ بھی چھوٹا رہ جائے گا
مقصد بڑا کریں۔۔۔
نئی شادی شدہ لڑکیاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں دماغی طور پر بالکل فراغت محسوس کرتی ہیں مگر جب 5 6 سال گزرتے ہیں تو پریشان ہوتی ہیں کہ کیا ہم صرف بچے پیدا کرنے کے لیے رہ گئ ہیں؟
جو آپ کر رہی ہیں وہ بھی بہت بامقصد ہے اگر اس کو بڑا سمجھیں تو۔۔۔۔
مگر ابتدا سے اپنے لیے وقت نکالیں کچھ ہلکا پھلکا پڑھنا سیکھنا جاری رکھیں۔۔۔اس کے لیے آپ باقاعدہ یونیورسٹی یا جاب نہیں بھی کر رہے تو اب آنلائن سب آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔فیس بک پر ہی ہزاروں ایڈ نظر آ جاتے ہیں بس سکرولنگ کر کے وقت کو نہ گزاریں۔
کیونکہ آپ نے اپنی قبر میں جانا ہے شوہر یا سسرال کی نہیں۔۔۔
رحمہ طارق
