خیالات و نظریات
اشفاق احمد کی کتاب ”زاویہ“ میں لکھا ہے:
”لوگوں کو پیسے کی، روپے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی ، جتنی احترام کی، عزت نفس کی، توقیرِ ذات کی ہوتی ہے۔ اور ہمارے ملک میں بدقسمتی سے اس کا رواج بڑا کم ہے، اور ہم نے کبھی اس بات کی طرف توجہ نہیں دی۔
آپ حیران ہو کے سوچتے ہوں گے کہ وہ لوگ جو پیسہ کماتے ہیں ، چراتے ہیں، رشوت لیتے ہیں____ ہم نے ان کو انٹرویو کر کے پوچھا کہ آپ کیوں رشوت لیتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ایسے قبیح فعل میں داخل ہوتے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں ہم بہت سا پیسہ اکٹھا کر کے اس سے عزت خرید لیتے ہیں“ ۔
”ہمیں ایسے مراکز کی ایسے ڈیروں کی ضرورت ہے جہاں چاہے ہمیں تعلیم نہ ملے، جہاں چاہے ہم کو گرامر نہ سکھائی جائے، جہاں چاہے ہم کو درس نہ ملے______ لیکن لوگوں کی تکریم ضرور ہو اور یہ نہ کہا جائے جی یہ صاحب علم نہیں ہے، اس لیے ہم عزت نہیں کرتے۔
ہم یہ کہیں گے ”چونکہ یہ انسان ہے اور یہ حضرت آدم کی اولاد ہے اس لیے ہم اس کی عزت ضرور کریں“۔
”زاویہ“ - اشفاق احمد
_________
جس دور میں اشفاق احمد صاحب نے یہ کہا ، اس سے زیادہ یہ مسئلہ آج گھمبیر ہو چکا ہے____ انسان کو انسان ہونے پر عزت نہیں مل رہی، وہ پیسے کا غلام بن رہا ہے۔
آپ برینڈز کی طرف دیکھیے۔
تن پر کپڑا ، جوتا ، زیور جتنا مہنگا ہے ، اتنے ہی آپ قیمتی ہیں۔
فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جتنا مہنگا ہے، وہی آپ کی قیمت ہے۔
بچے کا سکول /کالج/ یونیورسٹی جتنی مہنگی ہے، اتنی آپ کی عزت ہو گی۔
یہ وہ معیارات ہیں جن پر عزت کو تولا جا رہا ہے۔
شرافت ، اخلاقی قدریں، خلوص، پاکیزگی اور سادگی ___ یہ اوصاف تو بہت پیچھے رہ گئے۔
موجودہ #سرمایہ_دارانہ نظام نے انسان کی عزت کو پیسے کے ساتھ باندھ کر اس پر ظلم کیا ہے۔ اس کی اخلاقیات ، ساکھ اور دین و ایمان تک جب بِک جاتا ہے، پیسہ تب بھی پورا نہیں پڑتا۔ وہ عزت جو ’اچھا‘ انسان ہونے پر اسے نہیں مل رہی، اس کے لیے وہ پیسے کی طرف جھپٹتا ہے اور ’برا‘ انسان بنتا چلا جاتا ہے ۔
بنتِ سحر
#capitalism #modernism #moneytalks #ideologies #systems
آپ حیران ہو کے سوچتے ہوں گے کہ وہ لوگ جو پیسہ کماتے ہیں ، چراتے ہیں، رشوت لیتے ہیں____ ہم نے ان کو انٹرویو کر کے پوچھا کہ آپ کیوں رشوت لیتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ایسے قبیح فعل میں داخل ہوتے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں ہم بہت سا پیسہ اکٹھا کر کے اس سے عزت خرید لیتے ہیں“ ۔
”ہمیں ایسے مراکز کی ایسے ڈیروں کی ضرورت ہے جہاں چاہے ہمیں تعلیم نہ ملے، جہاں چاہے ہم کو گرامر نہ سکھائی جائے، جہاں چاہے ہم کو درس نہ ملے______ لیکن لوگوں کی تکریم ضرور ہو اور یہ نہ کہا جائے جی یہ صاحب علم نہیں ہے، اس لیے ہم عزت نہیں کرتے۔
ہم یہ کہیں گے ”چونکہ یہ انسان ہے اور یہ حضرت آدم کی اولاد ہے اس لیے ہم اس کی عزت ضرور کریں“۔
”زاویہ“ - اشفاق احمد
جس دور میں اشفاق احمد صاحب نے یہ کہا ، اس سے زیادہ یہ مسئلہ آج گھمبیر ہو چکا ہے____ انسان کو انسان ہونے پر عزت نہیں مل رہی، وہ پیسے کا غلام بن رہا ہے۔
آپ برینڈز کی طرف دیکھیے۔
تن پر کپڑا ، جوتا ، زیور جتنا مہنگا ہے ، اتنے ہی آپ قیمتی ہیں۔
فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جتنا مہنگا ہے، وہی آپ کی قیمت ہے۔
بچے کا سکول /کالج/ یونیورسٹی جتنی مہنگی ہے، اتنی آپ کی عزت ہو گی۔
یہ وہ معیارات ہیں جن پر عزت کو تولا جا رہا ہے۔
شرافت ، اخلاقی قدریں، خلوص، پاکیزگی اور سادگی ___ یہ اوصاف تو بہت پیچھے رہ گئے۔
موجودہ #سرمایہ_دارانہ نظام نے انسان کی عزت کو پیسے کے ساتھ باندھ کر اس پر ظلم کیا ہے۔ اس کی اخلاقیات ، ساکھ اور دین و ایمان تک جب بِک جاتا ہے، پیسہ تب بھی پورا نہیں پڑتا۔ وہ عزت جو ’اچھا‘ انسان ہونے پر اسے نہیں مل رہی، اس کے لیے وہ پیسے کی طرف جھپٹتا ہے اور ’برا‘ انسان بنتا چلا جاتا ہے ۔
بنتِ سحر
#capitalism #modernism #moneytalks #ideologies #systems

