یہ گھڑی محشر کی ہے اور تُو عرصۂ محشر میں ہے!
یہ تصور خوفناک ہے کہ ہم دنیا سے جائیں تو معلوم ہو کہ جو کچھ کرتے رہے دنیا ہی میں رہ گیا۔ مغفرت کے لیے آگے کچھ بھیجا ہی نہیں۔
باپ سوچے کہ بچوں کے مستقبل کے لیے پیسہ ہی کما سکا، ماں سوچے کہ بچوں کی صحت و آرام کی فکر رہی، نوجوان سوچیں کہ پڑھتے رہ گئے_____
لیکن اہم یہ ہے کہ تب صرف پچھتاوا باقی رہے گا۔
اللھم اجرنا من النار
دنیا کی زندگی میں جاب، پڑھائی، گھریلو کام ہر چیز اللہ کی ہدایت اور اس کی رضا کے مطابق ہو تو یہی باعث اجر بلکہ عبادت بن جائے گی
آخرت کے لیے زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کی زندگی کو ترک کیا جائے بلکہ احسن تو یہ ہے کہ اسی زندگی کو اللہ کے لیے گزارا جائے۔
_______
دن کا بیشتر حصہ اللہ کی خاطر گزارنا کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں۔ مگر___ یہ کرنا کیوں ہے؟ جنت کے لیے۔ "جنت" اتنی سستی نہیں!
سب سے پہلے اپنی زندگی کا مقصد "اللہ کی رضا کا حصول" بنا لیں جو کام ہو گا اللہ کے لیے ہو گا۔
گناہِ کبیرہ اور حرام چیزوں کو زندگی سے یکسر نکال دیں (شرک، والدین کی نافرمانی، زنا، جھوٹ، مالِ حرام وغیرہ)
اس کے بعد ہر سال ، مہینے ، دن اور گھنٹے کا استعمال حساب کتاب سے "رب کے دین کے قیام" کے لیے کرنا ہو گا۔
_______
دن کا زیادہ حصہ اللہ ربی کے لیے کیسے خرچ کریں؟ چند مشورے جو بچوں، نوجوانوں، بڑی عمر کے افراد کے لیے یکساں طور پر مفید ہوں گے۔
ہماری 5 نمازیں average ایک گھنٹہ لیتی ہیں۔ اگر آپ اچھی یعنی ٹھہر کر ، سمجھ کر نماز پڑھیں اور نماز کے بعد ”مسنون دعاؤں“ کا وقت بھی شامل کریں تو دن میں کُل دو ڈھائی گھنٹے بن جائیں گے۔
[02:00-02:30 hrs
]
صبح اور شام کے اذکار کا کُل وقت 20 سے 30 منٹ بنتا ہے۔
[03:00 hrs
]
دن میں ایک بار ناظرہ اور ایک بار قرآن بمع تفسیر ضرور پڑھیں۔ قرآن کا کُل وقت 1 گھنٹہ نکال لیں۔
[04:00 hrs
]
اپنے مقصد زندگی کے مطابق کوئی اچھی کتاب آدھ/ پون/ ایک گھنٹہ پڑھیں۔
[04:30-05:00 hrs
]
یہاں تک پہنچ کر دیکھیں تو ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے آپ نے اللہ کے لیے گزار لیے۔
اس کے علاوہ کام تو ہم بہت کرتے ہیں، بس "نیت" اللہ کی رضا ہو تو وہ سب عبادت بن جائیں
دن میں تین وقت کے کھانے کا ایوریج ٹائم اگر چالیس منٹ بھی ہو
تو کھانے سے پہلے نیت کریں کہ اللہ کی عبادت کے لیے قوی ہونا ہے۔
سونے کے سات/آٹھ گھنٹے ہوں تو
سونے سے قبل سورہ ملک پڑھ کر یہ نیت کریں کہ صبح تازہ دم ہو کر رب کی عبادت کرنے کے لیے سو رہے ہیں۔ تو یہ بھی عبادت ہے۔
اب تک کتنے گھنٹے ہوئے؟ بارہ/تیرہ
[12-13 hrs
]
خواتین دن میں دو تین بار کھانا بناتے، دیگر گھریلو کام کرتے ہوئے "استغفار" کریں۔
بچوں کی تربیت، مہمان کی خدمت غرض ہر کام کرتے ہوئے رب کی رضا سامنے رکھیں۔
مرد حضرات ڈیوٹی کرتے ہوئے "حلال رزق" کی نیت کریں۔
آتے جاتے وقت ، ٹریفک اشاروں پر رکے ہوئے "اذکار و استغفار" کریں۔
بچے اور نوجوان تعلیمی اداروں میں جاتے وقت سواری میں، انتظار گاہوں (waiting lounge) میں زندگی کا کتنا وقت گزارتے ہیں۔ اس وقت میں باآسانی کثرت سے نجانے کتنی ہی بار "استغفراللہ" کی تسبیح کر سکتے ہیں۔
دن میں مختلف جگہوں پر کئی بار سیڑھیاں چڑھنے والے لوگ کتنے منٹس اس میں لگاتے ہیں نا! اس وقت ”اللہ اکبر“ (چڑھتے ہوئے) اور ”سبحان اللہ (اترتے ہوئے)“ پڑھتے رہیں۔
اپنا ایوریج وقت خود نکال لیں جو ان سب کاموں میں لگتا ہے۔ اور پچھلے 13 گھنٹوں میں شامل کر لیں
[14-16 hrs
]
دن کا ایک حصہ معاشرے میں "رب کے دین کے قیام" کے لیے گزاریں۔
اس طرح
اوپر دیئے گئے ٹائم ٹیبل کے مطابق 24 میں سے چند گھنٹوں کے سوا بیشتر تو رب کے لیے گزارے جا سکتے ہیں۔ کچھ حصہ مثبت تفریح، گپ شپ وغیرہ کے لیے بھی نکالیں۔
________
یہ سب کرنے کے لیے ایک اہم کلیہ _ اچھی صحبت
”اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو ، جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں۔ اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو“۔
الکھف :28
بھولیے گا نہیں کہ دین میں 'اجتماعیت ' کا تصور ہے کیونکہ رب کی راہ میں اکیلے چلنا ممکن نہیں۔ آخرت کی فکر کرنے والے دوست بنائیے۔
اپنے گھر، صحبت اور معاشرے کو بدلیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جو معاشرے کی اصلاح کا کام کر رہے ہیں۔ جن کے پاس نظام کو بدلنے جیسا عظیم مقصد موجود ہے۔ کیونکہ وہ اپنے شب و روز بہترین انداز میں گزارتے ہیں۔
لیکن جب تک ایسی صحبت میسر نہیں، کم از کم دیگر ذاتی کاموں کو ترک نہ کریں۔
اللہ تعالی ہمیں غافلوں میں سے نہ کریں۔ اور ہمیں خوبصورت ترین جنتوں کے وارث بنائیں۔ آمین
بنتِ سحر
