ٹی وی رپورٹر صدف نعیم ٹرینڈنگ پر کیوں ہے؟
کیا وہ کنٹینر سے گرنا ایکسیڈنٹ تھا یا سازش؟
عمران کے خلاف بولنے پر جان کی بازی ہاری یا ؟؟
ہمارے لئے اس واقعے میں سبق؟
یہ بلاگ ضرور پڑھیں ۔
کیا یہ ہے اصل وجہ صدف کے ساتھ زیادتی اور اس کو قتل کرنے کیکہ صدف اس نیازی کی حقیقت عوام کو بتارہی تھی
اس میں ہمارے لئے کیا سب ہے
میری بہنو !واپس آ جاؤ
خاتون صدف کا ایک مقامی سیاسی لیڈر کو کہنا تھا کہ "میری نوکری کا سوال ہے اور دو میل کنٹینر کے ساتھ ساتھ پیدل بھاگ چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میرا ایک چھوٹا سا انٹرویو کروا دیجیے ۔۔۔خبر کی تلاش تھی ۔
سوال تو دو چار جملوں کا تھا کہ مل لیتے اور خاتون کی خبر بن جاتی ، لیکن سوال جان لے گیا ۔۔۔ لاہور کے ایک سیاسی رہنما نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا
"کوئی بات نہیں دو میل اور بھاگ لو"
اور آگے بڑھ گیا ۔۔۔
صبح جب گھر سے نکلی تو بیٹی نے ماں سے ضد کی
"ماں نہ جاو"
کہ آج اس کی سالگرہ ہے ، "مل کر مناتے ہیں" ، لیکن !
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
خاتون صدف چلی گئی ، ممکن ہے کہ بیٹی اب اپنی ہر سالگرہ پر صرف آنسو بہایا کرے ۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ وہ اپنے کسی متعلق فرد کو کہہ رہی تھیں کہ "اب تھک گئی ہوں" ۔۔۔ لانگ مارچ میں جان سے جانے والی صدف تھک چکی تھیں۔
۔۔۔۔۔
صدف نے کہا ’میں بہت زیادہ تھک چکی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ کچھ عرصے کے لیے صحافت چھوڑ دوں۔‘ اس کا یہ جواب میرے لیے حیران کر دینے والا تھا کیونکہ صدف کی پہچان ہی اپنے کام سے بے انتہا محبت تھی اور اس کے منھ سے یہ الفاظ سننا مجھے انتہائی عجیب لگا۔ شاید وہ شہر کی واحد خاتون رپورٹر تھیں جو دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے سات روز ڈیوٹی پر موجود ہوتی تھیں۔
صدف نے خود ہی مجھ سے سوال پوچھا کہ ’تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔۔۔ صحافت کو پکا پکا خیر باد کہہ دوں یا کچھ وقت کے لیے بریک لے لوں؟‘ اس سوال پر میں نے صدف کو مشورہ دیا کہ کچھ عرصے کی بریک لے لو اور دوبارہ جوائن کر لینا۔ صدف نے کہا کہ ’ابھی تو لانگ مارچ چل رہا ہے، بس جیسے ہی یہ ختم ہو گا تو میں بریک پر چلی جاؤں گی۔ اب نہیں ہوتا یہ مجھ سے، تم یقین کرو کہ میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ الفاظ ممکن ہے کہ سب کو بہت دکھی کر دیں لیکن کوئی اس تھکاوٹ کو نہیں جان سکتا کہ جو عورت کو اندر تک تھکا دیتے ہیں ، اور یہ تھکاوٹ ہرگز کام کی تھکاوٹ نہیں ، بلکہ یہ اپنی فطرت سے بغاوت کی تھکاوٹ ہے ۔عورت کے لیے مردوں نے جال لگایا اور بے چاری معصوم فاختہ اس جال میں الجھ گئی اور سمجھتی ہے کہ کام کی تھکاوٹ ہے ۔مرد سال کے بارہ مہینے ایک ہی طرح کا کام کرتا ہے اور پھر اس کی عمر گزر جاتی ہے ۔اکتاتا ہے اور نہ تھکتا ہےکہ فطرت یہی ہے ۔
میری بہنو !
یہ تھکاوٹ ہرگز نہیں ، اپنی معصوم فطرت کو کچلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گھٹن ہے ۔ ایسی گھٹن جس نے آپ کے وجود کو اندر تک تار تار کر دیا ہے ۔
آپ صبح سے رات تک دوڑتی ہو جبکہ آپ گھروں کی ملکہ تھی ۔
آپ دن بھر ہوسناک نگاہوں کا نشانہ رہتی ہو پھر شام ڈھلے آپ ان ناروا تیروں سے زخمی ہو کر تھک جاتی ہو ۔
آپ کو دن بھر مسلسل کام کرنا پڑتا ہے لیکن خالق نے تخلیق گلابوں کی نرمی رکھی تھی ، تھکاوٹ نہیں ہے ، پھول مرجھا رہے ہوتے ہیں ۔
میری بہن ! آپ نازک آبگینہ تھی ، حق تھا کہ آپ کے پاس سانس بھی آہستہ لیا جاتا ، مگر آپ منحوس نوکری بچانے کی خاطر میلوں دوڑتی ہیں اور پھر عمر بھر دوڑتی رہتی ہیں ، اور سفر ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا ۔
صدف خاتون کی ویڈیو ، کنٹینر کے پیچھے دوڑنے کی ویڈیو سب دیکھ رہے ہیں اور تاسف سے سر ہلا رہے ہیں لیکن کوئی سچ نہیں بول رہا کہ یہ اس کا کام نہ تھا ، خاتون کا کام معاشرے کی تعمیر ہوتا ہے ، بچوں کی تربیت ہوتا ہے ۔ اس نے گھر میں رہ کر معاشرے کا سدھار کرنا ہوتا ہے ۔
لیکن ! مرد نے اپنی ہوسناکیوں کے لیے اسے شمع محفل بنا دیا ۔۔۔۔۔۔
اسے حقوق ، برابر کے حقوق کے جھوٹے خواب دکھا کر بازار میں لا کھڑا کیا اور وہ بازار کا مال بن گئی۔۔۔کہ
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
۔۔۔۔۔۔ابوبکر قدوسی

